Introduction تعارف

تعارف (Introduction)
روحانی مسائل کے حل کے لیے میرے پاس جو افراد تشریف لاتے ہیں ان میں سے کئی ایک مجھ سے پتھروں اور نگینوں  کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ انہیں کون سا پتھر پہننا چاہیے؟ کس پتھر سے انہیں فائدہ پہنچے گا؟ ان کا لکی پتھر کون سا ہے؟  
ان شائقین کی راہنمائی کے لیے  میں نے پتھروں کے بارے میں ریسرچ شروع کر دی اور کئی برسوں کی محنت کے بعد جو نتائج حاصل کیے وہ سب احباب کے لیے لکھ رہا ہوں تا کہ ہر شخص جو پتھر وں کا شوق رکھتا ہے وہ ان کے بارے میں جان سکے۔
جواہر یا پتھر قدرت کی طرف سے انسان کو عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک ہیں، قدرت کے ان نوادرات سے ہر زمانے میں بنی نوع انسان نے فائدہ اٹھایا ہے۔ اللہ تعالٰی کے برگزیدہ پیغمبروں نے بھی پتھروں کو استعمال کیا ہے اور آج تک پتھروں کے طبی افعال اور سحری خواص سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
پتھروں کا علم ایک خاص علم ہے اور پتھروں سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اس علم سے آشنا ہیں، جواہر کا استعمال تدبیر سے ہونا چاہیے۔ ہر پتھر کے خواص جدا جدا ہیں، چنانچہ ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے برج اور ستارہ کے مطابق خاص اور موافق نگینے کا انتخاب کرنا، رنگ اور ماہیت جاننا، خاص اوقات میں خاص دھاتوں کے انگوٹھیوں میں پتھر لگوانا بھی تدبیر ہے، جب تک موافق تدبیر اختیار نہ کی جائے گی، اس سے مطلوبہ فائدہ نہ ہو سکے گا۔
 مندرجہ ذیل میں پتھروں کی فہرست دررج ہے۔ امید ہے، پتھروں کے شائقین اور ضرورت مند قارئین میری اس کاوش سے مستفید ہوں گے۔


 پتھر
 Stone
 مرجان
 Coral
 بیروج
 Aquamarine
 ایمے تھسٹ

 اوپل (جواہر کی رانی)
 OPEL
 یاقوت سرخ
 Ruby
 لاجورد
 Lapis Lazuli
 عقیق
 Agate
 فیروزہ
 Turquoise
 نیلم
 Sapphire
 بلڈ اسٹون
 Blood Stone
 مرواریدیا موتی
 Pearl
 درنجف

 سنگ ستارہ
 Chrysoprase
 حجرالشمس
 Sun Stone
 حجرالیہود

 زبرجد
 Beryl
 الیگزینڈرائٹ

 ترمری
 Tourmaline
 رداکھ

 سنگِ حدید یا حجرالحدید
 Corel
 لہسنیا
 Cat's Eye
 جزع یمانی

 پریڈٹ

 سنگِ سلیمانی
 Onyx
 سنگِ سیم

 ایپی ڈوٹ
 Apidoot
 سنگِ یشب


دُعا گو            
احسان محمود (خان بابا)

1 comment:

  1. جزاکم اللہ بہت اچھی کاوش ہے ۔اللہ علم میں برکت دے ۔خاکسار کو اپنے مقالہ کے لئے مدد ملی ۔جماعت احمدیہ نے قرآن کریم کے علوم کو پھیلانے کی کافی کوشش کی ہے ۔اس ضمن میں کئی مقالے بھی لکھوائے ہیں جن میں سے ایک قرآن کریم میں پ]ہاڑوں اور پتھروں کے متعلق ہے جو خاکسار لکھ رہا ہے

    ReplyDelete